قسمت والی ٹھوکریں۔۔۔ قسط 01

قسمت والی ٹھوکریں۔۔۔ قسط 01

عمیرپر گھر کی تمام تر ذمےداری تھی، حنا جب سسرال آئی تو عمیر کی ذمےداریاں اس پر آگئی تھیں۔ پہلی بیٹی کی پیدائش کے بعد اس نے ملک کے مشہور اسکول میں نوکری شروع کردی۔ فی زمانہ اسکول میں نوکری کرنا آسان نہیں ہوتا. روزانہ کی بنیاد پر مقا بلے کی نئی فضاء قائم ہوتی ہے اور نوکری ختم ہونے کی تلوار ہر وقت سر پر سوار رہتی ہے، چونکہ نوکری کر نےسے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور کچھ عیاشیاں زندگی میں شامل ہوجاتی ہیں جن کے بغیر زندگی دشوار سی لگتی ہے اس لئے نوکری کی ذمے داریوں کا طوق گردن کے گرد تنگ ہوتا جا تا ہے۔ حنا کو اسکول کے ساتھ ساتھ گھر کی ذمے داری بھی نبھانی ہوتی ہے جو ناممکن ہوتی ہے مگر آفرین ہے حنا پر جو ہر ذمے داری کو احسن طریقے سے نبھا رہی تھی ۔ ساس خوش تو نہ تھیں مگر خاموش، گھر میں آتی لکشمی کسے بری لگتی ہے، وہ بہو کے لئے مشکلات تو کھڑی نہ کرتی تھیں مگر اس کا ساتھ نہ دیتی تھیں، جب دیکھتیں کہ عمیر کا جھکاؤ بیوی کی طرف زیادہ ہورہا ہے تو ایسا تماشہ کرتی تھیں کہ عمیر حنا کی تمام تر خدمات کو یکسر فراموش کر کے اس سے متفکر ہوجاتا اور ساس مطمئن۔

حنا چونکہ تمام ذمے داریاں نبھارہی ہے تو عمیر مطمئن تھا۔ مطمئن مرد اس بپھرے ہوۓ سانڈ کی طرح ہو جاتا ہے جس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہےاور وہ اپنے سامنے آنے والی ہر چیزکو نیست ونابود کر دیتا ہے، عمیر بالکل اس سانڈ کی طرح ہوگیا تھا۔ آفس میں کام کرنے والی ایک لڑکی کے آگےدل ہار گیا، پہلے پہل تو گھر دیر سے آنا شروع کیا، حنا پر اور اس کی بات پر توجہ دینا ختم کی، چھوٹی باتوں پر جھگڑنا شروع کیا، حنا کی ذات کو نشانہ بنانا شروع کیا، اس کے اٹھنے، بیٹھنے، چلنے، پھرنے پر تنقید شروع کی، رات جب وہ گھر کے کاموں سے فارغ ہوکر شوہر کی رفاقت کی خواہشمند ہوتی تو عمیر کنی کترا جاتا اورجان بوجھ کراس کے میکے کی باتیں کرکے اس کو ذہنی اذیت سے دوچار کرتا تھا۔ آواز بلند کرتا اور ساس غصے میں کمرے میں آجاتیں اور اسے مورد الزام ٹہرا کر بیٹے سے چار برائیاں کرکے بیٹے کی پیٹھ تھپتپھا کر اس کے حوصلے مزید بلند کردیتیں اور بہو کو کوسنے دینے کی ذمے داری پوری کر کے اپنے کمرے میں چلی جاتیں، سب تماشے کے بعد عمیر بیوی کی جانب کمر کر کے موبائل میں مشغول ہوجاتا اور حنا شور کی وجہ سے اٹھی بیٹی کو سلاتے ہوۓ اس سب تماشے میں اپنا قصورتلاش کرنے کی کوشش کر تی، عورت تھی شوہر کے بدلتے ہوۓ رویئے کو سمجھ رہی تھی مگر اسکول اور گھر کے درمیان گھن چکر بنی ہوئی تھی، دونوں ذمے داریاں سو فصید توجہ مانگتیں تھیں۔

ہمارے معاشرے کا المیہ ہی یہ ہے کہ مرد صرف نوکری کرتا ہے جبکہ عورت نوکری کے ساتھ ساتھ سسرال کے جھمیلوں سے نبردآزما بھی رہتی ہے، بچے پیدا کرتی ہے اور ان کی پرورش کی بھی ذمےدار ہوتی ہے، ذرا سی بھول چوک پر اسے کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے، سارا قصور اس پر ڈال کر خود چین کی بانسری بجائی جاتی ہے۔

حنا اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑراہی تھی مگر کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا تھا جس سے وہ گھتی سلجھا لیتی، عمیر بہت اچھا شوہر نہ سہی مگر اس طرح حنا کا مخالف نہیں تھا، ساس کے سامنے اس کی طرف داری نہیں کرتا تھا لیکن تنہائی میں ماں کی زیادتی پر شرمندہ ضرور ہوتا تھا۔

یک دم سے بدلتے رویے نے حنا میں موجود چھٹی حس کو جنم دے دیا تھا۔ اب اس نے شوہر کے معمولات کا اعادہ شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ عمیر ایک ماہ سے اس سے اور بیٹی سے لاتعلق اور لاپرواہ ہے، حنا اس بات پر حیران تھی کہ وہ اس بات سے کیسے بے خبر رہی، اب تو پانی سر کے اوپر ہوتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ یک دم محسوس ہوا کہ تپتے صحرا میں کھڑی ہے اور قدموں تلے زمین بھی تھی، ہمت ہارنے کے قریب تھی مگرحالات پر رونے سے زیادہ اس کا مقابلہ کرنے کی عادی تھی اس لئے کمر کس لی تھی، شیرنی کی طرح چوکنی ہو گئی تھی۔ اس لئے جلد ہی عمیر پکڑمیں آگیا۔

اگر حنا شیرنی کی طرح چوکنی ہوگئی تھی تو عمیر بھی شیر کی طرح نڈر ہوگیا تھا، اس کے عشق کے چرچے حنا کے سامنے آۓ تو وہ بے باک بھی ہوگیا، حنا نے اختلاف کیا تو مردانگی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ حنا کو تھپڑ رسید کیا، حنا اس طرح کے ردعمل کے لئے تیار نہیں تھی اس لئے لڑکھڑاگئی، اس کے لڑکھڑانےسے عمیر کو شے ملی اور پھر اس نے لاتوں اور گھونسوں سے حنا کی تواضع کی، شور کی آواز سن کر ساس اندر آئیں اور حنا کو مار کھاتے دیکھ کر حیران ہوئیں اور پھر سب فراموش کرکے واپس چلی گئیں، حنا پر ڈھاۓ جانے والے ظلم کے گواہ صرف درودیوار رہ گئے تھے، عمیر فرعون بنا ظلم کی داستان رقم کر رہا تھا، حنا کی آہ و بکا پر ساس اور سسر کا دل نہیں پسیج رہا تھا، حنا کی تواضع کرنے کے بعد اس نے ویڈیو کال ملائی اور محبوبہ کو اپنے کارنامے سے آگاہ کرکے داد وصول کی۔ حنا اپنے دکھتے وجود کے ساتھ زمین پر بے یارومددگار پڑی تھی۔

اگلے دن عمیر کے آفس جانے کے بعد اس نے اپنا مقدمہ ساس سسر کی عدالت میں رکھا، سسراس بات سے انکاری تھے کہ ان کا لاڈلا مار پیٹ کرسکتا ہے، ساس کی خاموشی ان کی بات کی تائید ہی کر رہی تھی، حنا نے عمیر کے معاشقے کی بات کی تو سسرصاحب قہقے لگانے لگے اور فخریہ انداز میں ساس سے کہنے لگے “بیگم واہ بھائی واہ دل خوش ہوگیا، ہم تو ساری زندگی آپ کے ڈر سے ایسا کر ہی نہیں سکے مگر بیٹا جیت گیا، ہم تو ساری زندگی دال روٹی ہی پوری کرتے رہ گئے، بر خودار کے پاس تو بیوی کی کمائی بھی آرہی تھی، ارے بہو اس میں برا ماننے کی کیا بات ہے؟ مرد ہے؟ مرد عاشق مزاج نہ ہو تو اس کی مردانگی پر شک کرنا چاہیے، ارے ہم قسمت کے مارے بیوی کے خوف میں عاشق نہ رہے، اگر زیادہ مشکل ہے تو میکے چلی جاؤ، اونہہ نخرے دیکھو، ارے اگر تم میں گُن ہوتے تو میرا بیٹا کیوں کسی اور طرف دیکھتا؟ ارے غلطیاں تمہاری اور قصور میرے بیٹے کا؟ واہ بھائی واہ۔”

حنا کے کوتاہی کی نشاندہی کرنے کے بعد سسر یہ جا وہ جا، سسر کے جانے کے بعد ساس نے یوں نظریں پھیریں جیسے جانتے نہیں پہچانتے نہیں۔ سسرال کے روئیے سے حنا بہت دل برداشتہ ہوئی مگر کچھ کرنے سے قاصر تھی ۔ ماں کا انتقال بچپن میں ہوگیا تھا، بہن کوئی تھی نہیں، بھائی اپنی گھر گرہستی میں مگن، ابا تو دوسری بیوی کی زلفیں سنوارنے میں مصروف۔ زندگی میں امید کی کرن صرف گود میں بیٹھی بیٹی ہی تھی، جس کے آنکھیں ماں کے ساتھ بھیگ رہی تھیں۔

اب تو عمیر صاف سامنے آگیا اور کھلے عام نہایت بے شرمی سے حنا کے سامنے اس لڑکی سے باتیں کرنے لگا، پوری پوری رات محبت نامے چلتے رہتے، ایک دفعہ کی مار پیٹ کے بعد حنا نے احتجاج کرنےسے توبہ کرلی تھی، وہ پل پل عمیر کے بدلتے روئیے کو دیکھ رہی تھی، اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ عمیر بہت رومانوی باتیں کرتا ہے، اس لڑکی کے لئے وہ بہت حساس ہے، اس کی خوشی عمیر کی آنکھوں میں نظر آتی ہے اور اس کی تکلیف عمیر کے وجود میں دیکھی جاسکتی تھی، ان لمحات میں حنا کا واحد سہارا صرف وہ ہستی تھی جو واحد ہے، جب عمیر بےشرمی سے محبت کی داستانِ امیر حمزہ رقم کر رہا ہوتا تھا تو حنا جاۓ نماز بچھاۓ ربِ کعبہ کے حضوراپنی التجائیں لئے بیٹھ جاتی تھی، نینوں میں آنسو لئے، کانپتے ہاتھوں کو اٹھاۓ خداوند کریم کو پکارتی تھی اور اس کے کن کی منتظر رہتی تھی۔ روتے روتے اس کی ہچکی بندھ جاتی تھی، بعض دفعہ اس کو ﷲ کے آگے اس طرح فریاد کرتے دیکھ کر عمیر خوفزدہ سا ہو جاتا تھا کیونکہ دل میں چور جو تھا، کبھی تو کمرے سے باہر نکل جاتا اور کبھی چیزیں اٹھا اٹھا کے پٹخنا شروع کر دیتا کہ کسی طرح حنا جاۓ نماز سے اٹھ جاۓ مگر حنا بھی ٹس سے مس نہ ہوتی۔

اس طرح کے شور شرابے سے ساس جو کمرے میں ہونے والی ہر سرگرمی سے باخبر رہنا اپنا حق سمجھتی تھیں فوراً کمرے میں آپہنچتی اور حنا کو دنیا و مافیا سے بے خبر دیکھ کے خوفزدہ ہوجاتی اور اس خوف کو کم کرنے کے لئے حنا پر زور زور سے چلانا شروع کر دیتیں، اور جتاتی کہ شوہر کی مرضی کے بغیر نفلی عبادت نہیں ہوتی اور حنا گناہ گار ہورہی ہے، حنا چپ کا روزہ رکھے خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیتی، ساس اور عمیر جھک جھک کرکے خود خاموش ہوجاتے یا کبھی عمیر کو زیادہ غصّہ آتا تو حنا کو دو تین ٹھڈے لگا دیتا اور وہ سجدے میں گر کر اور رونے لگتی۔ وہ ٹھوکر جو انسان کو ربِ کریم کے روبرو کردے، ایسی ٹھوکر تو زندگی کا حاصل ہوتی ہے۔

زندگی کی حشر سامانیاں اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ حنا کی زندگی کے ہر خدوخال کو عیاں کررہی تھیں، وہ بھی سب سے قطع تعلق ہو کر اپنا مقدمہ ﷲ کے حضور پیش کر چکی تھی، اب ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والے رب کی کن کی منتظر تھی ۔ اس کا یقین کامل تھا، اور جہاں یقین کی ردا سر پر ہو معجزے بھی وہاں ہوتے ہیں۔

[ جاری ہے۔۔۔ دوسری اور آخری قسط ]

4 2 votes
Article Rating
SidrahArif

SidrahArif

میں ایک حساس انسان ہوں۔ معاشرے میں موجود ۃر بات کا اثر لیتی ہوں،اسلئے قلم کے ذریعے اثر کم کرنے کی کو شش کرتی ہوں۔ شاید کسی کی زندگی میں کوئی اثر چھوڑ سکوں۔ خود کو پرسکون کر سکوں۔ معاشرتی برائیوں کو مخمل میں لپیٹ کے پہش کرسکوں۔

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments