پیا کے گھر۔۔۔ خوش آمدید! ۔ قسط 01

پیا کے گھر۔۔۔ خوش آمدید! ۔ قسط 01

دل میں ہزاروں امید یں لئے زرنش پیا گھر آئی تھی۔ سسر کا سینہ فخر سے پھولا ہوا تھا کہ گھر میں پی ایچ ڈی بہو آئی ہے گردن تنی ہوئی تھی اورآنکھوں میں تکبرکی جھلک صاف نظر آرہی تھی۔

زرنش خوش تھی کہ استقبال بہت اچھا ہوا ہے اور اس کے دل کا خوف کچھ کم ہوا۔۔۔

جلد ہی نندیں حجلہ عروسی میں اسے لے گیئں۔

زرنش نے اپنا فرینچر دیکھا تو اس کا دل ماں باپ کی محبت سے بھر گیا اور آنکھیں انکی محبت کے آگے سجدہ ریز۔۔

تھوڑی دیر میں ساس صاحبہ رعونت کا لبادہ اوڑھے سامنے بیٹھ گئ اور بہو کے سونے کے کنگن پر انگلیاں پھیرنے لگیں اور للچائی ہوئی نظروں سے زرنش کے زیورات کو ٹٹولنے لگیں۔۔۔ زرنش کو انکی آنکھیں جسم سے آر پار ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں اور آج وہ ان کا یہ انداز دیکھ کر خائف سی ہوگئ۔۔ انھوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا او ر ماتھے پر پیار کیا، ساس کا لمس محسوس ہوتے ہی زرنش کے دل میں محبت کی کونپل پھوٹی،

دفعتا ساس صاحبہ اس کے ہاتھ سے کنگن اتارنے لگیں۔۔زرنش پھٹی پھٹی نظروں سے انھیں دیکھنے لگی مگر ہزار کوشش کے باوجود کچھ نہ بول سکی۔۔

ساس صاحبہ نے جھٹ کنگن اپنی کلائی میں ڈالے اور پوچھنے لگیں “بہو دیکھ میرے ہاتھ میں زیادہ حسین لگ رہے ہیں؟ ارے آج کل کی لڑکیاں تو پارلر کی وجہ سے اچھی لگتی ہیں میک اپ کی وجہ سے ایسا پکا پن ہے شکلوں پر کہ جیسے ﷲ کی مار ہو۔ خدا گواہ ہے آج بھی پورا خاندان کہ رہا تھا کہ جمیلہ آپا تم کہیں سے بھی شایان کی ماں نہیں لگ رہی ہو۔۔”

اور پھر زرنش کے کان میں سرگوشی کرنے لگیں کہ “میرا منگیتر تو آج تک افسوس کرتا ہے کہ اس وقت غلط فیصلہ کیا شادی نہ کرنے کا۔ بس بہو میری تو قسمت پھوٹ گئ تھی۔۔۔”

اور ڈوپٹے کے پلو سے آنسو پوچنے لگیں۔۔

“آج بھی تم دیکھ لو پورے خاندان کے سامنے تمہاری لیاقت کے قصیدے پڑھ رہے تھے ارے کبھی کسی کے سامنے میری تعریف نہیں کی۔۔ کیا میں پڑھی لکھی نہیں تھی۔۔۔ ہاۓہاۓ ساری زندگی گزر گئ کبھی ہما ری تو تعریف نہ کر سکا یہ آدمی، آج کی آئی بہو علم کا سمندر لگ رہی ہے ہائے میرے پیارے ﷲ تو ہی فیصلہ کرنے والا ہے۔۔۔” انکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔۔۔

زرنش پتھرائی ہوئی آنکھوں سے انکے بدلتے ہوۓ رنگ دیکھ رہی تھی اسے محسوس ہورہا تھا کہ وہ مجرم ہے اور اسکی تعلیم اسکا جرم ہے۔۔۔

“خیر بہو معاف کرنا میں نے تمہیں پریشان کردیا، میں دل کی بہت صاف ہوں، تھوڑی جذباتی ہوں ۔۔ دفع کرو۔ یہ بتاؤ کہ یہ کنگن میرے ہاتھوں میں کیسے لگ رہے ہیں؟”

زرنش کی زبان گنگ ہو چکی تھی اور تصور میں اس کے گھر کا ماحول آگیا جہاں اسکی ماں بہوؤں کو ممتا کی چھاؤں میں رکھنا اپنا ایمان سمجھتی تھی، مگر یہاں تو گنگا الٹی بہہ رہی تھی ساس بہو کے مد مقابل کھڑی تھی اور زرنش کو بہو سے زیادہ سوتن سمجھ رہی تھیں، وہ تعلیم جو اسکا زیور رہی تھی آج گلے میں طوق لگ رہی تھی، ایک ایسا طوق جو ناسور بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پل پل سانپ کی طرح ڈنگ مارے گا۔۔۔۔ اس زنگ زدہ ماحول میں نخلستان صرف شایان کی ذات ہو سکتی تھی جو اس وقت ناجانے کہاں تھا۔۔

زرنش منتظر نگاہوں سے باربار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں صرف خاموشی تھی طوفان سے پہلے والی خاموشی۔۔۔ زرنش ایک پر اعتماد لڑکی تھی لیکن اس وقت اسکے اعتماد کے سمندر میں تلاطم تھا۔۔۔

اسکی ساس نے اسے جنجھوڑ کے پوچھا کہ “لڑکی بتا ناں کنگن جچ رہے ہیں ناں مجھ پر؟” اور وہ ساکت نگاہوں سے ساس کو دیکھ رہی تھی، اسکی حالت دیکھ کے تھوڑی شرمندہ ہوئی اور پھر سے سینہ پیٹ کے رونے لگی “ہاۓ میری تو کوئی نہیں سنتا ہاۓ ہاۓ۔۔۔”

ساس کو روتا دیکھ زرنش کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، آن ہی آن میں سارا گھر زرنش کے گرد جمع ہوگیا اور ملامتی نظروں سے زرنش کو دیکھنے لگے، شایان ماں کے قدموں میں بیٹھ گیا اور ان کے رونے کی وجہ پوچھنے لگا۔ بیٹے کی توجہ پاکر جمیلہ خاتون کو شہ مل گئی اور ہاتھ نچا نچا کر بولنے لگی کہ “پوچھ اپنی بیوی سے کیوں میری بات کا جواب نہیں دے رہی۔ ایسا کیا پوچھ لیا میں نے اس سے، صرف یہ ہی پوچھا ناں کہ یہ کنگن میری کلائی میں زیادہ جچ رہے ہیں، نگوڑ ماری میرے حسن سے جل گئ، ہائے ﷲ میں مر کیوں نہیں جاتی۔۔۔”

شایان نے قہر بھری نظروں سے زرنش کو دیکھا اور ماں کو سینے سے لگا کر خاموش کروانے لگا اور یقین دلانے لگا کہ وہ اس دنیا کی سب سے حسین عورت ہیں۔ اپنی تعریف سن کر جمیلہ خاتون کچھ مطمن ہوئیں مگر کلیجے میں ٹھنڈ نہ پڑی۔ “دیکھ لے اپنی بیوی کو، آتے ہی تیری ماں کو آٹھ آٹھ آنسو رلا دیئے، بول اس سے بول مجھ سے معافی مانگے۔۔۔”

“زرنش اماں سے معافی مانگو!”

“مگر میں نے کیا کہا؟” زرنش منمناتے ہوئے بولی،

“اگر مگر کو چھوڑو! میں نے کہا معافی مانگو۔” شایان نے چیختے ہوۓ کہا۔۔۔ زرنش کے پاس معافی مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔۔ کہنے لگی “اماں مجھے معاف کر دیں۔”

جمیلہ خاتون نے فاتحانہ انداز میں زرنش کو دیکھا اور کہنے لگیں “ارے بہو میرا کیا ہے گھر کے کونے میں پڑی رہونگی تم تو گھر کی مالکن ہو بھائی ھم سے کوئی غلطی ہو تو ماں سمجھ کر درگزر کر دینا۔” روتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئی اور شایان روتی ہوئی ماں کی دل جوئی کرنے ان کے پیچھے چل پڑا۔

نیا گھر نیا ماحول، ماں کی لاڈلی بے یارو مدد گار۔۔۔ شایان کے رویے نے اس گھر میں اس کے مستقبل کا تعین کردیا تھا۔

[ جاری ہے۔۔۔ قسط 02 ]

5 1 vote
Article Rating
SidrahArif

SidrahArif

میں ایک حساس انسان ہوں۔ معاشرے میں موجود ۃر بات کا اثر لیتی ہوں،اسلئے قلم کے ذریعے اثر کم کرنے کی کو شش کرتی ہوں۔ شاید کسی کی زندگی میں کوئی اثر چھوڑ سکوں۔ خود کو پرسکون کر سکوں۔ معاشرتی برائیوں کو مخمل میں لپیٹ کے پہش کرسکوں۔

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments