فیصلہ کرنے کا حق؟ ۔ قسط 01

فیصلہ کرنے کا حق؟ ۔ قسط 01

سارہ دکھی دل کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی۔ ثانیہ ماں سے ہاتھ چھڑا کر جھٹ دادی کی گود میں چڑھ بیٹھی اور رونے لگی۔۔۔ سارہ کے ہاتھ پاوں پھول گئے۔ ثانیہ کا رونا سارہ کی شامت لانے کے مترادف تھا۔ سارہ اپنا غصہ پس پشت ڈال کر اسے گود لینے لگی مگر ثانیہ ماش کی دال کی طرح اکڑنے لگی اور دادی کی آغوش میں چھپ کر بھاں بھاں کرکے رونے لگی۔

سیدہ خاتون نےسینے پر دو ہتھڑ مارے اور سارہ کو کوسنے دینے لگی ” کم بخت کیوں رو رہی ہے میری شہزادی ؟؟؟ بتا ناں خاموش کیوں ہے؟؟”

سیدہ خاتون کی چیخ و پکار سن کر سارا گھر ثانیہ کے گرد جمع ہوگیا اور اسے پچکارنے لگا۔ سب کی توجہ پا کر ثانیہ کے رونے میں اضافہ ہوگیا، سب اس کے رونے کی وجہ پوچھنے لگے مگر ثانیہ نے ایک لفظ منہ سے نہ نکالا- دادا جان اسکے رونے سے پریشان ہوگئےاور اسے گود میں اٹھائے باہر چلے گئے۔

سارہ سر جھکائے مجرموں کی طرح کھڑی تھی۔ بھابھی بتائیں ثانیہ کیوں رو رہی تھی؟ مریم آنکھوں میں آنسو لئے سارہ سے پوچھنے لگی۔”ارے یہ منحوس کیا بتائے گی۔۔۔ آج آجائے ذرا ارشد تو اس کا فیصلہ کرواتی ہوں۔” تو چل سکنجوین بنا کے لا میرا بی پی لو ہوگیا ہے، دلہن تم ذرا کمرے میں آکر میرا بی پی چیک کرو۔ بچی کا رونا کہاں برداشت ہوتا ہے مجھ سے، مگر ناں جی تکلیف دینی ہے مجھے۔” سیدہ خاتون بڑی بہو سے مخاطب ہوکر بولیں۔

سارہ صحن میں تنہا رہ گئی اور رات کے اندیشے اس کے گرد منڈلانے لگے- وہ جانتی تھی کہ ثانیہ کے رونے پر آج رات گھر میں کس قسم کی پنچائیت لگے گی۔ ارشد کے آنے میں ابھی کافی وقت تھا- اس نے ذہن کے گھوڑے دوڑائے کہ ایسا کیا لائحہ عمل بنائے کہ گھر والے ثانیہ کے رونے کو بھول جائیں اور رات ہونے والی پنچائیت ٹل جاۓ۔

سب سے پہلے وہ ساس کے کمرے میں گئی جو منہ پر دوپٹہ ڈالے لیٹی تھیں۔ سارہ ان کے پاؤں دبانے لگی۔ سارہ کا لمس محسوس کرتے ہی انھوں نے اپنے پاؤں کھینچ لئے۔ “اما ں آپ میری بات سمجھنے کی کوشش تو کریں، میں اس کی دشمن تو نہیں ہوں،” سارہ روہانسی ہوگئی۔

“سارہ دیکھ تجھے ﷲ کا واسطہ چلی جا یہاں سے،” اما ں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے.

سارہ دم سادھے ساس کی شکل دیکھنے لگی۔

“دفع ہوجا! سنتی کیوں نہیں،” اس بار دھکا دے کر خود سے دور کیا۔ اتنی بے توقیری پر سارہ خون کے آنسو رونے کے سوا کچھ نہ کر سکی۔

اب کی بار سارہ نے نند کے کمرے کا رخ کیا جومیک اپ زدہ چہرہ لئے ٹک ٹاک بنانے میں مصروف تھی، سارہ کو دیکھ کراس نے منہ بنایا اور شغل میں مصروف رہی۔ سارہ اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ “جی بھابھی؟” اس نے نحوست سے پوچھا،”کیا کام ہے؟” “وہ مریم میں کہہ رہی تھی کہ تم تو اما ں کی لاڈلی ہو-”

مریم کی گردن ذرا تن گئی ۔۔۔”تو کیا اس میں میرا قصور ہے؟ آخر میں اماں کی اکلوتی ہوں اور تم تو جانتی ہو بھابھی اپنے خاندان کی پہلی لڑکی تھی میں اور سوہنے رب نے حسن بھی اتنا دیا ہے کہ بس کیا بتاؤں۔۔!! جھیل جیسی آنکھیں، بڑی بڑی پلکیں اور تو اور ہونٹوں کے پاس جو تل ہے اماں تو دیوانی ہیں اس کی۔”

( مریم تصور میں خود کو کسی ریاست کی ملکہ ہی سمجھ رہی تھی)۔

“مریم دیکھو تعلیم بھی تو ضروری ہے ناں، میں پڑھی لکھی ہوں۔۔۔”

“اف بھا بھی تم تو بس کردو ،شکل دیکھی ہے تم نے اپنی؟ آنکھیں دھنسی ہوئی ہیں، رنگ کالا سیاہ ہے تمہارا، ہونہہ تعلیم کا کیا اچار ڈالنا ہے؟”

سارہ اپنی کم ما ئیگی پر آنسو بھی بہا نہ سکی اور جلدی سے بولی”دیکھو مر یم تم اماں کو سمجھاؤ ناں وہ ثانیہ کو اسکول جانے دیں۔”

“اٹھو بھابھی تم یہاں سے اور نکل جا ؤ میر ے کمرے سے، خدا کی لعنت ہو تم پر۔ ارے اب ہمارے گھر کی لڑکیاں اسکولوں کی خاک چھانیں گی؟ نکلو یہاں سے۔”

سارہ کے پاس مریم کے کمرے سے نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

اب اس کا رخ جٹھانی کے کمرے کی طرف تھا- کمرے میں دستک دے کر اندر داخل ہوئی تو سامنے ثانیہ پلنگ پر سو رہی تھی اور جٹھانی اس کی بلائیں لے رہی تھیں۔

“بھابھی بات سنیں۔۔۔”

“دیکھو سارہ کتنے سکون سے سو رہی ہے میری شہزادی، ثانیہ کو دیکھ دیکھ کے جیتی ہوں میں تو، قسم سے میں تو دنیا سے کنارہ کر لیتی اگر ثانیہ نہ ہوتی تو۔۔۔ دیکھ ناں! سارہ میں کتنی بدنصیب ہوں اپنی کوکھ سے کوئی بچہ نہ جن سکی ( ٹپ ٹپ آنسو ان کی آنکھوں سے گرنے لگے) پتہ نہیں ﷲ کو کیا منظور ہے ؟ ہر مزار پر حاضری دی میں نے ، چادریں چڑ ھائیں، لنگر کیا ۔۔۔ مگر میری گود ہری نہ ہوئی ۔”

“بھا بھی آپ پریشان نہ ہو ں ﷲ آپ کی ضرور سنے گا، ثانیہ بھی تو آپ کی ہی بیٹی ہےاب آپ کو اس کے اچھے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔”

بھابھی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ سارہ کی امید بندھی اور جلدی جلدی بولنے لگی، “بھا بھی ہم اسے اسکول بھیجیں؟؟؟”

“سارہ ! تم اپنے دماغ سے یہ خناس نکال کیوں نہیں دیتی؟ پچھلی بار کی مار بھول گئی ہو کیا؟”

“لیکن بھابھی میری بچی کا مستقبل بھی تو ہے ، کیسے خاموش ہوجاؤں؟”

“بھئ واہ ! تمہاری طرح اس کا باپ سرکاری ملازم نہیں ہے۔ ماشاﷲ سے اپنا کاروبار ہے، گاڑی، گھر، بنگلہ سب کچھ تو ہے۔ ارے تو پریشان نہ ہو اس کا مستقبل محفوظ ہے، اس گھر کی اکلوتی وارث ہے۔”

“وہ تو ہے بھابھی لیکن تعلیم بھی تو ضروری ہے۔۔۔”

“ارے آگ لگے ایسی تعلیم کو جو تمہیں تمیز نہ سکھا سکی کہ ضد نہیں کرنی چاہئے۔ ویسے آفرین ہے تم پر پورا گھر ایک طرف اور تم اپنی ضد پر قائم ہو۔۔۔”

“بھا بھی ارشد اور بھیا بھی تو پڑھے لکھے ہیں؟”

“سارہ تو اب مردوں سے مقابلہ کرے گی؟ کا فروں کا طریقہ اپناۓ گی؟ دیکھ، تو میری چھوٹی بہن جیسی ہے۔ ہمارا مذہب ہمیں مردوں سے مقابلہ کرنے کا نہیں کہتا، عورت گھر میں ہی بھلی لگتی ہے۔”

“بھابھی ہمارا مذہب ہی کہتا ہے کہ علم حاصل کرو چاہے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔”

“سارہ جا یہاں سے، تو بد شگونی پھیلا رہی ہے۔”

“لیکن بھابھی یہ آپ کی ثانیہ کی زندگی کا سوال ہے، تعلیم زیور ہے بھابھی۔۔۔”

“پچاس تولے سونا ہے میرے پاس۔ اس سے تین گنا زیادہ میں ثانیہ کو دوں گی اسے کسی زیور کی ضرورت نہیں ہوگی۔” جٹھانی صاحبہ کے لہجے میں فخر ہی فخر تھا۔ “ویسے بھی اماں بہت غصے میں ہیں ، تجھے اس بات کا بھی خوف نہیں کہ رات کیا ہوگا گھر میں؟”

سارہ منمنائی۔

“چپ کر! پورے دن کا تھکا ہارہ شوہر گھر آۓ گا اورتیری حرکتوں کی وجہ سے سکون نہیں کر سکے گا۔ جا اب جا کہ ہانڈی چولہا دیکھ ۔۔۔” سارہ کی آخری امید بھی دم توڑ گئی اور اس نے کچن کا رخ کیا۔

دل میں اندیشے اور وسوسے لئے ارشد کی پسند کا کھانا بنانے میں جت گئی، اماں کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوۓ نرگسی کوفتے بنانے کا سوچا، سسر میٹھے کے شوقین تھے ان کے لئے کھیر چڑھائی ۔ اما ں نے دو بار کچن میں آکے دیکھا مگر بولی کچھ نہیں۔ یہ ان کی ناراضگی کا ثبوت تھا، نہیں تو وہ ہمیشہ رات کا کھانا بنانے میں اپنا حصہ ضرور ڈالتی تھیں۔

رات بھیا اور ارشد گھر آۓ تو خاصے خوش تھے، کاروبار میں منافعے کا سن کر اماں شکرانے کے نفل پڑھنے لگی، ابا بھیا سے تفصیل پوچھنے لگے، ارشد سارہ کو بتانے لگا کہ اب وہ اسے سونے کے کنگن بنوا کر دے گا۔

کھانا بڑے پرسکون ماحول میں کھایا گیا، اماں نے رغبت سے نرگسی کوفتے کھاۓ اور کھیر سے بھی انصاف کیا، سارہ کے دل کا خوف کچھ کم ہوا اور مطمئن ہوئی۔

گفت و شنید کے بعد جب سب اپنے کمروں میں جانے لگے تو اماں نے ارشد اور سارہ کو روک لیا۔ سارہ کا دل کانپنے لگا جبکہ ارشد اما ں کے پاؤں دبانے لگا۔۔۔ اما ں نے ایک نظر سارہ کے زرد چہرے کو دیکھا اور ارشد سے کہنے لگیں،”ہاں تو بیٹے یہ بتا کہ تیری ماں میں شعور نہیں ہے کیا؟ یا زیور کی کمی ہے ہمارے پورے خاندان کے پاس؟ یا پھر ہم حقوق العباد یا حقوق ﷲ سے واقف نہیں؟ یا تمہاری ماں تم بہن بھائیوں کی تربیت صحیح نہیں کرسکی؟“

”اما ں کیسی باتیں کررہی ہیں آپ؟ یہ سب سوچا بھی کیسے آپ نے؟ آج ہم سب ترقی کے عروج پر اگر ہیں تو صرف آپ کی وجہ سے،“ ارشد نے ممنون نگاہوں سے اماں کی طرف دیکھا۔

”ماں صدقے، ماں واری،“ اما ں خوش ہوگئیں ۔ ”تو اپنی پڑھی لکھی بیوی کو بھی یہ بات بتاؤ، جس کو تیری ماں کی باتیں جا ہلانہ لگتی ہیں۔“ اماں نے رونی شکل بنا کر ارشد کی طرف دیکھا۔

”کیا بات ہوئی ہے سارہ میری ماں اتنی دکھی کیوں ہے؟“ ارشد نے سخت لہجے میں سارہ سے پوچھا۔ ”اماں آپ غلط سمجھ رہی ہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے-“ سارہ منمنائی ۔۔۔

“ہاں بہو میں تو جاہل ہوں- مجھے کیا پتہ کہ بات کیسے کرنی ہے؟” اماں رونے کی اداکاری کرنے لگیں۔

“دیکھ ارشد ایک بات میں تجھے صاف صاف بتادوں: میرے جیتے جی توثانیہ اسکول نہیں جاۓ گی، میں مر جاؤں تو شادیانے بجواکر اسے اسکول بھیجنا، میرا فیصلہ اٹل ہے اور آج کے بعد اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی۔”

اماں نے مدد طلب نظروں سے ارشد کی طرف دیکھا۔۔۔

ارشد کی خاموشی نے اماں کے حوصلے کو کمک دی اور وہ تکبرانہ انداز میں دوبارہ گویا ہوئیں ”غضب خدا کا وہ بچی میری آنکھوں کا تارہ ہے ایک لمحے کے لئے میری نظروں سے اوجھل ہو تو دنیا ویران لگتی ہے اور میں اسے اسکول بھیج دوں، بتا ارشد اپنا فیصلہ بتا،“ اماں نےاپنا رخ ارشد کی طرف موڑا۔

”اماں آپ کا فیصلہ سر آنکھوں پر،“ ارشد نے اماں کا ہاتھ پکڑ کر انھیں یقین دلایا۔

ادھر سارہ اپنی ہی کوکھ سے جنی بچی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتی تھی۔

کیوں؟ کیونکہ وہ ثانیہ کو اپنے ساتھ جہیز میں نہیں لائی تھی۔

[ جاری ہے۔۔۔ قسط 02 ]

5 1 vote
Article Rating
SidrahArif

SidrahArif

میں ایک حساس انسان ہوں۔ معاشرے میں موجود ۃر بات کا اثر لیتی ہوں،اسلئے قلم کے ذریعے اثر کم کرنے کی کو شش کرتی ہوں۔ شاید کسی کی زندگی میں کوئی اثر چھوڑ سکوں۔ خود کو پرسکون کر سکوں۔ معاشرتی برائیوں کو مخمل میں لپیٹ کے پہش کرسکوں۔

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments